اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت کو امید ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی سکیورٹی اور معاشی کمزوریاں ریاض کو تل ابیب کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے پر آمادہ کرسکتی ہیں۔ عبرانی زبان کے مختلف تجزیوں اور تحقیقی مضامین میں اس امکان پر بحث کی گئی ہے کہ سعودی عرب کی بیرونی مدد اور تحفظ کی ضرورت کو اسرائیل اپنے لیے اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل کرسکتا ہے۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، تاہم سکیورٹی تعاون کی ضرورت کو کھلے سیاسی قرب میں تبدیل کرنا دو عوامل پر منحصر ہے: سعودی عرب تعلقات معمول پر لانے کی سیاسی قیمت برداشت کرنے کے لیے کتنا تیار ہے، اور اسرائیل و اس کے شراکت دار ریاض کو ایسا مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں جو سعودی عرب کی عسکری قوت کو مزید کمزور ہونے سے بچا سکے۔
یہ تجزیے سعودی عرب کے بھاری دفاعی اخراجات اور اس کی محدود عملی عسکری کارکردگی کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسرائیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق یوئل گوجانسکی کے مطابق، سعودی فوج کی کمزوریوں میں تربیت یافتہ ماہر اہلکاروں کی کمی، تنظیمی انتشار، فوج کے مختلف شعبوں کے درمیان کمزور رابطہ کاری اور بیرونی مدد پر انحصار شامل ہیں۔
ان کے مطابق، سعودی عرب کے اسلحے کے معاہدے زیادہ تر حکومت کے سیاسی وقار اور طاقت کے اظہار میں مدد دیتے ہیں، جبکہ سازوسامان کی دیکھ بھال و مرمت، گولہ بارود کی فراہمی، تربیت اور لاجسٹک معاونت کو نسبتاً کم ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ کمزوریاں یمنی مسلح افواج کے زیرِ استعمال نسبتاً کم قیمت میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوجاتی ہیں۔ ایسے حملے مہنگے دفاعی نظاموں کو مسلسل استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جدید ہتھیاروں کے بڑے ذخائر کے باوجود سعودی عرب کی بیرونی مدد پر انحصار برقرار رہتا ہے۔
سعودی عرب کی سکیورٹی کمزوریاں اور معاشی دباؤ
اس صورتِ حال کے اثرات متعدد شعبوں تک پھیلتے ہیں، تاہم سب سے زیادہ دباؤ سعودی عرب کی معیشت اور تیل کی برآمدات کے راستوں پر پڑتا ہے۔
اسرائیلی ادارے یروشلم انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ سکیورٹی کے محققین گابی سیبونی اور ایریز فینر کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے سعودی عرب کی مشرقی۔مغربی پائپ لائن اور بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں پر بڑھتا ہوا انحصار باب المندب کو بھی اس کے لیے دباؤ کا ایک اہم ذریعہ بنا دیتا ہے۔
ان محققین کے خیال میں، باب المندب میں جہاز رانی کو خطرے کی محض دھمکی بھی بیمے کے اخراجات بڑھانے اور بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔ اس سے سعودی عرب کے دستیاب راستے محدود ہوجاتے ہیں: یا تو جنگ کو وسعت دے کر اس کے طویل مدتی نقصانات برداشت کیے جائیں، یا پھر تیل کی برآمدات، معاشی منصوبوں اور ملک کی نئی قیادت کی پوزیشن پر پڑنے والے دباؤ کو قبول کیا جائے۔
اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کے شاحر کلائمن نے سعودی عرب کے اندرونی تحفظ کے معاملے کو ولی عہد محمد بن سلمان کی سیاسی پوزیشن سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق، عمان کی سفارت کاری اور ثالثی پر انحصار کے باوجود ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کی خبر نے ولی عہد کے لیے سیاسی اور سفارتی گنجائش محدود کردی۔
کلائمن کا اندازہ ہے کہ اگر سعودی سرزمین کے تحفظ میں ناکامی کے آثار بار بار سامنے آتے ہیں تو بن سلمان کے مخالفین کو ان پر تنقید کا موقع مل سکتا ہے، جس سے وہ طویل محاذ آرائی میں داخل ہونے کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔
تاہم، ان کے مطابق، جنگ میں فیصلہ کن کامیابی کے لیے ضروری حالات موجود نہیں۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی گروہوں کے درمیان اختلافات ایک مؤثر متحدہ محاذ کی تشکیل میں رکاوٹ ہیں، جبکہ یمنی مسلح افواج حملوں کو برداشت کرنے اور اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی استعداد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ریاض کو جنگ روکنے کے لیے نئے بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اسرائیل سعودی عرب کی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں
ان حالات میں اسرائیلی حلقوں میں ایسی تجاویز سامنے آرہی ہیں جن کا مقصد سعودی عرب کی موجودہ مشکلات سے فائدہ اٹھا کر اسے تل ابیب کے ساتھ قریبی تعاون کی طرف لانا ہے۔
یروشلم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے شائع کردہ ایک تجزیے میں ایران لرمان کا کہنا ہے کہ باب المندب کے قریب یمنی کامیابیوں نے ترکی اور پاکستان کی مدد کی حدود اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی قیمت کو نمایاں کیا ہے۔ ان اختلافات نے یمن کی حکومت کے مخالف گروہوں کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔
لرمان کے مطابق، ریاض اپنے تعلقات کی نئی ترتیب میں اسرائیل کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کو اپنے مفاد میں دیکھ سکتا ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ایک علاقائی نشست کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ابوظہبی کے دورے اور امریکی شرکت سے جوڑا۔ ان کے خیال میں یہ پیش رفت اس اتحاد کی بحالی کا ممکنہ اشارہ ہوسکتی ہے جسے وہ ’’استحکام کا کیمپ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس تعاون کو برقرار رکھنے کے لیے وہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کردار پر بھی انحصار کرتے ہیں۔
تاہم، لرمان تسلیم کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے کھلے تعاون کے بارے میں تحفظات اور اس نشست میں اپنی شرکت سے انکار کے باعث اسے کسی حتمی اور مستحکم تبدیلی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
بحری اتحاد، انٹیلی جنس تعاون اور متبادل تجارتی راستے
سیبونی اور فینر کی تجاویز میں مجوزہ تعاون کی تفصیلات زیادہ واضح ہیں۔ دونوں محققین ایک مستقل بحری اتحاد کے قیام، انٹیلی جنس کے تبادلے، بروقت انتباہی نظام، حملوں کو روکنے کے ساتھ ان کی تیاری کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے اور متبادل تجارتی راستے تیار کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔
وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع ایلات۔عسقلان پائپ لائن کے ذریعے ممکنہ تعاون کا ذکر بھی کرتے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے سعودی عرب کے گریز اور ترکی و پاکستان کے ساتھ تعاون کو ترجیح دینے پر ان کی تنقید سے ان تجاویز کے پیچھے موجود سیاسی مقصد بھی نمایاں ہوتا ہے۔
اس کے باوجود، دونوں محققین کسی بھی اقدام کی کامیابی کو بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر آنے سے مشروط کرتے ہیں اور یمن میں طویل زمینی جنگ کے نتیجے میں فوجی وسائل کے مسلسل ضیاع کے خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت کی سمدار پری کا اندازہ ہے کہ محمد بن سلمان اسرائیل سے کھلے عام مدد مانگنے میں جلدی نہیں کریں گے، اگرچہ ان کے بقول سعودی ولی عہد کو امریکی ثالثی کے ذریعے اسرائیل کی انٹیلی جنس معاونت حاصل ہے۔
پری سعودی ولی عہد کے مؤقف کو فلسطین کے معاملے پر سعودی شرائط اور نیتن یاہو پر عدم اعتماد سے جوڑتی ہیں۔ اس عدم اعتماد کی ایک وجہ نومبر 2020 میں مقبوضہ علاقوں کے شہر نیوم میں دونوں رہنماؤں کی مبینہ خفیہ ملاقات سے متعلق رپورٹس بھی ہیں، جس کی ریاض نے تردید کی تھی۔
پری نے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے سعودی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیلی قیادت میں تبدیلی ایک مختلف باب کھولنے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے۔
اسرائیل کے لیے موقع، مگر تعلقات معمول پر آنے کی ضمانت نہیں
مجموعی طور پر اسرائیلی تجزیوں کے مطابق، یمن کی جنگ سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے کی طرف مائل کرسکتی ہے۔ تاہم، اس تعاون کو کھلے عام تعلقات معمول پر لانے میں تبدیل کرنا اب بھی ریاض کے سیاسی فیصلوں اور مجوزہ سکیورٹی مدد کی عملی افادیت پر منحصر ہے۔
ان تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی عرب کی عسکری صلاحیتوں پر دباؤ ڈالنے والے عوامل، جن میں نسبتاً کم قیمت حملوں کے مقابلے میں مہنگے دفاعی نظاموں کا استعمال اور سعودی حمایت یافتہ یمنی گروہوں کے درمیان اختلافات شامل ہیں، اسرائیل کے ساتھ قربت سے متعلق توقعات کو محدود کرتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں، سعودی عرب کی بیرونی سکیورٹی شراکت داروں کی ضرورت اسرائیل کے لیے ایک موقع تو پیدا کرتی ہے، لیکن اس سے تل ابیب کو مطلوبہ سیاسی فائدہ حاصل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔
آپ کا تبصرہ